7 نومبر 2026 - 11:02
حزب اللہ کا امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے سفارت خانوں کے گستاخانہ بیان پر سخت ردعمل

حزب اللہ نے امریکہ اور کئی دیگر ممالک کے گستاخانہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور بے عملی کا مظاہرہ کرنے کا سلسلہ ختم کرے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور چند دیگر ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے لبنان کے داخلی امور میں مداخلت اور مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر زور دینے والے بیان کے ردعمل میں حزب اللہ کے سینئر رہنما اور لبنانی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن علی عمار نے جمعہ کی شب کہا کہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان کے سفارت خانوں کی جانب سے جاری کیا گیا بیان پست اخلاقی اور بے شرمی کی انتہا ہے۔

علی عمار نے کہا کہ یہ گستاخانہ بیان لبنان کے داخلی معاملات کی انتہائی حساس تفصیلات میں کھلی مداخلت ہے۔ اس میں لبنان کی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی، سفارتی آداب یا لبنانی عوام کی عزت و وقار کا ذرہ برابر احترام نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بیان قومی فیصلوں کے تعین میں مداخلت اور اپنے سیاسی ایجنڈے لبنان پر مسلط کرنے کی حد تک جا پہنچا ہے۔

حزب اللہ کے اس نمائندے نے غیر ملکی احکامات کے سامنے لبنانی حکومت کی مسلسل پسپائی اور بے عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکام کی جانب سے بار بار ہونے والی ان مداخلتوں کو مسلسل نظر انداز کرنا اور انہیں معمولی یا معمول کا معاملہ سمجھ کر قبول کرنا قطعی ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اور آئینی ذمہ داری لبنانی حکام کو پابند کرتی ہے کہ وہ ان مداخلتوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں، کیونکہ یہ مداخلتیں لبنان کی خودمختاری اور اس کے اداروں کی خلاف ورزی ہیں اور تمام لبنانی عوام کی ناقابلِ برداشت توہین کے مترادف ہیں۔

علی عمار نے واضح کیا کہ جو ممالک جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ لبنان کے دوست ہیں اور اس کی حمایت کے خواہاں ہیں، ان کے لیے زیادہ مناسب ہوتا کہ وہ اجلاس منعقد کرتے اور ایک ایسا بیان جاری کرتے جس میں اسرائیل کی جانب سے لبنانی سرزمین پر مسلسل قبضے کو مسترد کیا جاتا۔ انہیں لبنان کی خودمختاری پر روزانہ ہونے والے حملوں، قتل و غارت، تباہی اور بے دخلی کے جرائم اور بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرنی چاہیے تھی۔

لبنانی پارلیمان کے اس رکن نے کہا کہ ان ممالک کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت لبنانی عوام کے اس حق کی حمایت کا اعلان بھی کرنا چاہیے تھا کہ وہ تمام جائز ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے دفاع اور اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ انہیں لبنانی عوام کے درمیان قومی مکالمے اور مفاہمت کی اپیل کرنی چاہیے تھی، نہ کہ اختلافات کو ہوا دینے، ان کے درمیان تنازعات بھڑکانے اور ان کے دشمنوں کا دفاع کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

حزب اللہ کے رہنما کے یہ بیانات اس کے بعد سامنے آئے ہیں جب گزشتہ روز بیروت میں امریکی سفارت خانے نے ان ممالک کا مشترکہ بیان جاری کیا تھا جو خود کو نام نہاد ’’لبنان کے دوست‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا تھا:

ہم، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان کے سفارت خانے، لبنان کے دوستوں کی حیثیت سے اس بات کی ضمانت دینے کے لیے لبنانی حکومت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہوں اور جنگ و امن سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار صرف حکومت کو حاصل ہو۔

اس مداخلت پر مبنی بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ موجودہ حالات میں لبنان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پارلیمان کے تمام ارکان اور تمام سیاسی جماعتوں سے واضح اور علانیہ عہد لیا جائے کہ وہ صدر اور وزیرِاعظم کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ جنگ اور امن کے معاملات کا فیصلہ کرنے کا حق صرف لبنانی حکومت کو حاصل ہے۔

یہ مداخلت پسندانہ اور گستاخانہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب لبنان کی موجودہ حکومت، اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، بالخصوص گزشتہ چند ماہ کے دوران، امریکی اور صہیونی احکامات کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کرتی رہی ہے۔ اس حد تک کہ اس نے لبنان کی سرزمین پر صہیونی دشمن کی جارحیت اور قبضے کا جواز پیش کرنا شروع کر دیا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے مؤقف سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے لبنان سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کو مزاحمت کو غیر مسلح کرنے سے مشروط قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha